shayad

 

مجھے تیرے لیے خود سے ھی لڑنا پڑ گیا شاید
تو وه ہیرا ہے اب جس کو کچلنا پڑ گیا شاید

مجھے تجھ سے محبت تھی , مگر تجھ میں انا اتنی
مجھے تیری انا سے بچ, نکلنا پڑ گیا شاید

تو کہتا تھا میری چاھت میں کوئی جھول ھے لیکن
تجھے چاھت کی شدت سے پگھلنا پڑ گیا شاید

میری آنکھوں میں تو نے آج تک , دیکھی نمی نا تھی
مگر اب میری آنکھوں کو چھلکنا پڑ گیا شاید

اسد نام, محبت ایک جھانسا ہے یقیں مانو
جو کھائ میں نے اب ٹھوکر سنبھلنا پڑ گیا شاید

علی اسد لاشاری

Advertisements
shayad