انسان اور انسانیت

تمہیں میں پارسائی کی کہانی اک سناتا ہوں
محبت کی تجلی آج میں پِھر سے دکھاتا ہوں

ہمیں معلوم ہی کیا ہے کسی سے کب وفا کرنا
محبت بے زُبان کی میں عیاں تم پر کراتا ہوں

بہت دعوے یوں الفت کے یقینا خوب کرتے ہیں
مگر ان سارے وعدوں کی حقیقت میں بتاتا ہوں

کسی کو قتل کرنے میں مہارت خوب رکھتے ہیں
مگر کتے سے بدتر ہیں جتانا خوب چاہتا ہوں

ہزاروں لوگ مرتے ہیں کبھی اِس دن کبھی اس دن
فکر کب کون کرتا ہے میں خود بھی لوٹ آتا ہوں

یقینا بے یقینی میں اگر غلطی میں کر جاؤں
کسی بھی بے زُبان کی میں زُبان خود بن ہی جاتا ہوں

بہت ہی چھوٹے نکتے پر ہوا مفلوج ہوں علی

میں انسان بنتے بنتے کیوں یوں حَیوان بن ہے جاتا ہوں

Advertisements
انسان اور انسانیت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s