یاداشت

بہت ہی کھلبلی سی ہے
خیالوں میں سوالوں میں
یقین کے سبھ حوالوں میں
بہت ہی ٹوٹ کر بکھرا
ہلاکت خیز سالوں میں
میں منظور نظر کب تھا
ہجر کی بہکی چالوں میں
بہت کچھ جان پایا ہوں
تلاطم خیز ہالوں میں
کہو اب کچھ اسد تم بھی
بہا بیٹھے ہو یادوں کو
سمندر میں یا نلوں میں

Advertisements
یاداشت

رابطہ

میرے ذہن پر ہوا نقش جو
وہ عکس بھی بے مثال تھا

مجھے کیا خبر مجھے کیا پتہ
وہ بچھڑنا اس کا کمال تھا
میری آنکھ میں وہ جو اشک تھا
مجھے اس پے کافی ملال تھا


مجھے لاکھ اس نے جفائیں دی
ہر قدم پے اس نے سزائیں دی


نا ملا میں اس سے یوں پِھر علی
میرا رابطہ بھی بحال تھا

رابطہ

انسان اور انسانیت

تمہیں میں پارسائی کی کہانی اک سناتا ہوں
محبت کی تجلی آج میں پِھر سے دکھاتا ہوں

ہمیں معلوم ہی کیا ہے کسی سے کب وفا کرنا
محبت بے زُبان کی میں عیاں تم پر کراتا ہوں

بہت دعوے یوں الفت کے یقینا خوب کرتے ہیں
مگر ان سارے وعدوں کی حقیقت میں بتاتا ہوں

کسی کو قتل کرنے میں مہارت خوب رکھتے ہیں
مگر کتے سے بدتر ہیں جتانا خوب چاہتا ہوں

ہزاروں لوگ مرتے ہیں کبھی اِس دن کبھی اس دن
فکر کب کون کرتا ہے میں خود بھی لوٹ آتا ہوں

یقینا بے یقینی میں اگر غلطی میں کر جاؤں
کسی بھی بے زُبان کی میں زُبان خود بن ہی جاتا ہوں

بہت ہی چھوٹے نکتے پر ہوا مفلوج ہوں علی

میں انسان بنتے بنتے کیوں یوں حَیوان بن ہے جاتا ہوں

انسان اور انسانیت

پکار

اے میرے سوزے سخن تجھ کو یہ معلوم نہیں
تیری تدبیر بہت کارگر سی گزری تھی

تیرے ہر ظلم پے کب میں نے کیا اُف تک تھا ؟
ہر ہزیمت بھی بہت شعلہ فگن گزری تھی

پکار

غربت

محفل یاراں میں بیٹھا سوچ میں میں پر گیا
جادو اِس دنیا کا کیسا غافلوں پے چل گیا
ہر روز کچھری میں ہے اک آگ مسلسل
تپش میں جس کی بندہ اے مظلوم جل گیا
تھر میں میسر نہیں پانی بھی اگرچہ
افسوس اِس نگر میں ، دودھ بہتا رہ گیا
رختے سفر غریب کی سوچوں سے دور ہے
امیرے شہر ہر قدم پے کوچ کرتا رہ گیا
غم ناک مصائب میں گھرا ہر قدم غریب
محفلے ارزاں میں غافل جھومتا ہی رہ گیا
نشیب و فراز دیکھ کر دنیا کے علی بھی
غفلت بھرے ہجوم کے سانچے میں ڈھل گیا

غربت