shayad

 

مجھے تیرے لیے خود سے ھی لڑنا پڑ گیا شاید
تو وه ہیرا ہے اب جس کو کچلنا پڑ گیا شاید

مجھے تجھ سے محبت تھی , مگر تجھ میں انا اتنی
مجھے تیری انا سے بچ, نکلنا پڑ گیا شاید

تو کہتا تھا میری چاھت میں کوئی جھول ھے لیکن
تجھے چاھت کی شدت سے پگھلنا پڑ گیا شاید

میری آنکھوں میں تو نے آج تک , دیکھی نمی نا تھی
مگر اب میری آنکھوں کو چھلکنا پڑ گیا شاید

اسد نام, محبت ایک جھانسا ہے یقیں مانو
جو کھائ میں نے اب ٹھوکر سنبھلنا پڑ گیا شاید

علی اسد لاشاری

Advertisements
shayad

یاداشت

بہت ہی کھلبلی سی ہے
خیالوں میں سوالوں میں
یقین کے سبھ حوالوں میں
بہت ہی ٹوٹ کر بکھرا
ہلاکت خیز سالوں میں
میں منظور نظر کب تھا
ہجر کی بہکی چالوں میں
بہت کچھ جان پایا ہوں
تلاطم خیز ہالوں میں
کہو اب کچھ اسد تم بھی
بہا بیٹھے ہو یادوں کو
سمندر میں یا نلوں میں

یاداشت

رابطہ

میرے ذہن پر ہوا نقش جو
وہ عکس بھی بے مثال تھا

مجھے کیا خبر مجھے کیا پتہ
وہ بچھڑنا اس کا کمال تھا
میری آنکھ میں وہ جو اشک تھا
مجھے اس پے کافی ملال تھا


مجھے لاکھ اس نے جفائیں دی
ہر قدم پے اس نے سزائیں دی


نا ملا میں اس سے یوں پِھر علی
میرا رابطہ بھی بحال تھا

رابطہ

انسان اور انسانیت

تمہیں میں پارسائی کی کہانی اک سناتا ہوں
محبت کی تجلی آج میں پِھر سے دکھاتا ہوں

ہمیں معلوم ہی کیا ہے کسی سے کب وفا کرنا
محبت بے زُبان کی میں عیاں تم پر کراتا ہوں

بہت دعوے یوں الفت کے یقینا خوب کرتے ہیں
مگر ان سارے وعدوں کی حقیقت میں بتاتا ہوں

کسی کو قتل کرنے میں مہارت خوب رکھتے ہیں
مگر کتے سے بدتر ہیں جتانا خوب چاہتا ہوں

ہزاروں لوگ مرتے ہیں کبھی اِس دن کبھی اس دن
فکر کب کون کرتا ہے میں خود بھی لوٹ آتا ہوں

یقینا بے یقینی میں اگر غلطی میں کر جاؤں
کسی بھی بے زُبان کی میں زُبان خود بن ہی جاتا ہوں

بہت ہی چھوٹے نکتے پر ہوا مفلوج ہوں علی

میں انسان بنتے بنتے کیوں یوں حَیوان بن ہے جاتا ہوں

انسان اور انسانیت

پکار

اے میرے سوزے سخن تجھ کو یہ معلوم نہیں
تیری تدبیر بہت کارگر سی گزری تھی

تیرے ہر ظلم پے کب میں نے کیا اُف تک تھا ؟
ہر ہزیمت بھی بہت شعلہ فگن گزری تھی

پکار